شدید بیماری سے جان چلی گئی کیونکہ علاج کے لئے پیسے نہیں تھے۔۔۔ وہ اداکار جو مالی مشکلات کی وجہ سے سڑک پر آگئے

ساری زندگی لوگوں کو ہنسانے اور دل بہلانے والے فنکار کسمپرسی کی موت مرجاتے ہیں۔ اس وقت نہ ان کی مدد کرنے وہ لوگ نھی آگے نہیں آتے جن کے وہ آنسو پونچھتے رہے اور نہ ہی حکومت ان کے لئے کچھ کرتی ہے۔ اس آرٹیکل میں “ہماری ویب“ کے پڑھنے والوں کو ایسے فنکاروں کے بارے میں بتایا جائے گا جن سے ہماری یادیں تو بہت جڑی ہیں لیکن وقت کی چمک دمک میں ہم انھیں بھولتے چلے گئے۔

ففٹی ففٹی کے ماجد جہانگیر
“حکومت نے مجھے تمغہ امتیاز سے تو نواز دیا لیکن مالی مدد نہیں کی۔ مجھے فالج ہے میں اپنے لئے کچھ نہیں کرسکتا“

یہ دل چیر دینے والےجملے کہنے والے مشہورِ زمانہ پروگرام ففٹی ففٹی کے ماجد جہانگیر ہیں جو چھ سال کے عرصے سے فالج کے مریض ہیں اور غربت کی وجہ سے سڑک پر آچکے ہیں۔ ماجد جہانگیر نے مزید بتایا کہ گورنرِ سندھ نے ان کی مالی مدد کا اعلان کیا تھا لیکن کچھ نہیں ہوا۔ ماجد جہانگیر حکومت پاکستان سے مدد کے منتظر ہیں اور غریب فنکاروں کے لئے ماہانا وظیفے کی اپیل بھی کررہے ہیں۔

مجھے اور کتنا تنگ کروگے؟ جاوید کوڈو
چھوٹے قد کی وجہ سے کوڈو کہلانے والے پاکستان کے ممتاز اداکار جاوید کوڈو ویسے تو کئی دہائیوں تک پاکستانیوں کو ہنساتے رہے۔ لیکن بہت کم لوگ اس بات سے واقف ہیں کہ ہمیشہ ہنسنے ہنسانے والا یہ فنکار اپنے سینے میں ایک دل بھی رکھتا ہے۔ اس کی بھی کچھ خواہشات اور مجبوریاں ہوسکتی ہیں۔ جاوید کوڈو کافی عرصے سے بیمار ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے انھوں نے ایک ویڈیو بھی شئیر کی جس میں روتے ہوئے حکومت سے شکوہ کیا کہ “مجھے اور کتنا تنگ کرو گے میں بیمار ہوں، کبھی اپنا گھر نہیں بنا سکا کیا میری عوام کی خدمت کرنے کا یہی انعام ہے کہ مجھے کوئی پوچھتا نہیں۔ اتنی مہنگائی ہے جس میں اب گزارا کرنا میرے لئے مشکل ہوگیا ہے“

عینک والے جن کی بل بتوڑی
اسی طرح چند سال پہلے ایک مشہور اخبار نے خبر چھاپی کے نصرت آرا یعنی مشہور زمانہ ڈرامے عینک والا جن میں یاد گار کردار بل بتوڑی نبھانے والی اب سڑکوں پر بھیک مانگ رہی ہیں۔ لیکن بعد میں پتا چلا کہ اس خبر میں کوئ سچائی نہیں لیکن غربت اور حالات کی تنگی کی وجہ سے وہ شدید بیمار ہونے کے باوجود اپنا علاج نہیں کرواپارہیں تھیں۔ جب تک وہ زندہ رہیں مدد کی اپیل کرتی رہیں لیکن بالآخر تین سال پہلے ان کا انتقال ہوگیا۔

Sharing is caring!